ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام آموزشی

  • پہلا جلد
    • پہلی فصل: تقلید
    • دوسری فصل: طہارت
    • تیسری فصل: نماز
    • چوتھی فصل: روزه
    • پانچویں فصل: خمس
      • سبق 66: خمس
      • سبق 67: آمدنی کا خمس(1)
      • سبق 68: آمدنی کا خمس (2)
      • سبق 69: آمدنی کا خمس(3)
        پرنٹ  ;  PDF
         
        سبق 69: آمدنی کا خمس(3)
        چند نمونے جن کو مؤونہ نہیں کہا جاتا
        8۔ مؤونہ صدق نہ کرنے کے چند نمونے
        1۔ سرمایہ
        1۔ تجارت اور ملازمت (تنخواہ وغیرہ) سے حاصل ہونے والے سرمائے میں خمس ہے پس اگر کوئی شخص سرمائے کے عنوان سے اپنا مال بطور مضاربہ کسی کو دیتا ہے تو اس کا خمس دینا واجب ہے اسی طرح سرمائے کے ساتھ تجارت کرنے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع میں سے جتنا زندگی کے مخارج میں خرچ ہو جائے اس میں خمس نہیں ہے لیکن سال کے اخراجات سے جو بچ جائے اس میں خمس واجب ہے۔

        توجہ
        اگر کوئی شخص کئی منزل گھر بنائے یا مہیا کرے تاکہ اس کے کچھ طبقوں کو کرائے پر دے اور کرائے سے حاصل ہونے والی رقم سے زندگی کے اخراجات پورے کرے تو اضافی طبقوں کا خمس ادا کرنا چاہئے۔

        شراکت میں
        1۔ ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے حصے کا خمس ادا کرے اس بنا پر اگر کچھ لوگ پرائیویٹ اسکول بناتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ جو کچھ کمپنی کے سرمائے کے طور پر دیتا ہے اس کا خمس ادا کرے اسی طرح واجب ہے کہ جب مشترکہ سرمائے کا منافع موصول ہو تو اس کے حصے سے جتنی مقدار مؤونہ سے بچ جائے خمس والے سال کے اختتام پر اس کا خمس ادا کرے۔
        2۔ کمپنی کے سرمائے اور اس کے منافع سے خمس ادا کرنا ہر ممبر کی کمپنی کے مجموعی سرمائے میں سے اپنے حصے کی نسبت اپنی ذمہ داری ہے۔
        3۔ ہر شراکت دار کی طرف سے کمپنی کے سرمائے میں اپنے حصے کے مطابق خمس ادا کرنے کے بعد مجموعی سرمائے میں دوبارہ خمس نہیں ہے۔

        قرض الحسنہ دینے والے اداروں کا حکم
        1۔ اگرہر حصے دار نے ادارے کی تشکیل کے وقت جو پیسہ دیا ہے اس کے علاوہ اسے ادارے کی نقدی کو بڑھانے کیلئے ہر ماہ کچھ رقم دینا پڑتی ہے چنانچہ ہر حصے دار نے خمس والا سال ختم ہونے کے بعد ادارے میں اپنا حصہ اپنی کمائی کے منافع یا اپنی تنخواہ سے دیا ہو تو اس کا خمس دینا واجب ہے لیکن اگر اسے سال کے دوران میں دیا ہو تو چنانچہ خمس والے سال کے اختتام پر اس کیلئے اس کا لینا ممکن ہو تو ضروری ہے کہ سال کے اختتام پر اس کا خمس ادا کرے ورنہ جب اسے وصول کرے گا اس وقت اس کا خمس ادا کرے گا۔
        2۔ اگر اس کا سرمایہ مشترکہ صورت میں افراد کا ذاتی مال ہو تو اس سے حاصل ہونے والا منافع ہر ممبر کے حصے کے تناسب سے اس کا ذاتی مال ہوگا اور سال کے اخراجات سے جو بچ جائے اس کا خمس دینا واجب ہے لیکن اگر ادارے کا سرمایہ کسی فرد یا افراد کا ذاتی مال نہ ہو مثلا وقف عام وغیرہ ہو تو اس سے حاصل ہونے والے منافع میں خمس نہیں ہے۔
        2۔ تجارت کی جگہ اور اس کے آلات و ابزار مثلا تجارت اور زراعت کا مکان اور مسافر یا مال کے حمل و نقل کے وسائل سرمائے کا حصہ ہیں اورخمس کے پہلے سال کے اختتام پر اس کا خمس دینا ضروری ہے اور اگرکوئی اس کا خمس ادا نہ کرسکتا ہو تو خمس کے ولی امریا اس کے وکیل کے ساتھ دست گردانی کرکے اسے قسطوں میں ادا کرسکتا ہے۔
        3۔ پگڑی سرمائے کا حصہ ہے اس لئے اس میں بھی خمس ہے اور چنانچہ سال کے دوران ملنے والے منافع سے مہیا کیا گیاہو تو خمس تعلق پید اکرے گا اور پہلے سال کے دوران اس کی قیمت کے مطابق خمس ادا کرنا چاہئے۔
         
        2۔ سرمائے میں اضافہ
        1۔ اگر قیمت میں اضافے کی وجہ افراط زر ہو یعنی کرنسی کی قیمت کم ہوئی ہو اور اجناس کو زیادہ قیمت میں فروخت کیا جائے تو قیمت میں ہونے والی یہ افزائش قیمت میں اضافہ شمار نہیں ہوگی اور خمس نہیں ہے۔
        2۔ جس مال تجارت کا خمس ادا کیا گیا ہے اگر اس کی قیمت بڑھ جائے اور فروخت کا امکان موجود ہو تو خمس کا سال آنے پر افراط زر کی مقدار کو کسر کرنے کے بعد بڑھنے والی قیمت کا خمس ادا کرناچاہئے لیکن سال کے اختتام تک کوئی خریدار نہ ملے تو اس وقت اس کی اضافہ ہونے والی قیمت میں خمس دینا واجب نہیں ہے اور قیمت میں ہونے والا اضافہ اس سال کی آمدنی کا حصہ ہوگا جس میں فروخت کرنے کا امکان ہے۔
        3۔ اگر بیچنے کی نیت سے مخمس مال کے ساتھ کوئی سامان خریدے اور کچھ مدت کے بعد اسے بیچ دے تو خریدنے والی قیمت اور افراط زر سے اضافی مقدار کمائی کا منافع شمارہوگا اور سال کے اخراجات سے جو بچ جائے گا اس کا خمس دینا واجب ہے۔
        4۔ اگر کوئی شخص سال کے دوران ہونے والی آمدنی سے زمین یا سونے کا سکہ فروخت کرنے کی نیت کے بغیر خریدے تو سال کے اختتام پر اس کی قیمت کے مطابق خمس ادا کرنا چاہئے اور جب تک اس کی قدر میں آنے والا اضافہ فروخت نہ کیا جائے خمس نہیں ہےاور فروخت کرنے کے بعد افراط زر کی مقدار کو کسر کرنے کے بعد قیمت میں ہونے والا اضافہ فروخت ہونے والے سال کی آمدنی کا حصہ ہوگا۔
         
        4۔ بچت
        1۔ جس آمدنی کو بچت کیا جاتا ہے، خمس کے سال کے اختتام پر خمس واجب ہے البتہ اگر کسی شخص کے خمس کا سال پہنچ جائے اور وہ اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے وسائل کی طرف محتاج ہو چنانچہ خمس کی ادائیگی میں اس قدر تاخیر کی جائے کہ عرفا اس میں مال خر چ کرنا سال کے اخراجات کی ادائیگی شمار ہوجائے تو جائز ہے کہ خمس ادا کرنے سے پہلے اس وسیلے کو خریدے اور باقی ماندہ کا خمس ادا کرے۔
        2۔ کمائی کے جتنے منافع کی بچت کی جاتی ہے اس میں ایک مرتبہ خمس واجب ہوتا ہے اور اسے قرض الحسنہ کی صورت میں بینک میں رکھنے سے اس کا خمس ساقط نہیں ہوگا۔
         
        5۔ قرضے
        1۔ اگر مال کو ادھار پر فروخت کرنے کے منافع کی بابت کسی شخص کے قرضے ہوں اور خمس کے سال کے اختتام پر وصول کرسکتا ہو تو سال کے اختتام پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے اور اس صورت کے علاوہ میں اس سال کی آمدنی کا حصہ شمار ہوگا جس سال اس قرضے کو وصول کرے۔
        2۔گذشتہ مسئلے میں اگر قرضے کا کچھ حصہ سال کے منافع کی بابت تھا جو جنس میں تبدیل ہوا اور اس کے بعد ادھار فروخت کیا گیا ہو تو وصول کرنے کے فورا اس مقدار کا خمس ادا کرنا چاہئے۔
        3۔ وہ تنخواہ جس کی ادائیگی تاخیر کا شکار ہو اور اورٹائم کی اجرت چنانچہ خمس کے سال کے اختتام تک قابل وصول نہ ہوتو اس سال کی آمدنی کا حصہ ہوگا جس سال اس کو وصول کیا جائے پس اگر وصول کرنے والے سال کے اخراجات میں خرچ کیا جائے تو خمس نہیں ہے لیکن خمس کے سال کے اختتام پر قابل وصول ہوتو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے اگرچہ ابھی تک وصول نہیں کیا گیا ہو۔
        4۔ پنشن اور وہ پیسہ جو چھٹی کے حق سے استفادہ نہ کرنے کی وجہ سے ادا کیا جاتا ہے چنانچہ خمس کے سال کے اختتام تک باقی رہے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
        5۔ اگر سال کے ہونے والی آمدنی سے کسی کوقرض دے چنانچہ خمس کے سال کے اختتام تک اس قرضے کو واپس لینا ممکن ہو تو سال کے اختتام پر اس کا خمس ادا کرنا چاہئے لیکن سال کے آخر تک اپنا قرض واپس نہ لے سکے تو جب بھی وصول کرے فورا اس کا خمس ادا کرنا چاہئے۔
         
        6۔ سونے کے سکے
        سونے کے سکے اگر کمائی کا منافع شمار ہوں تو وجوب خمس کے لحاظ سے ان کا حکم بھی دوسری آمدنی والا ہوگا۔
         
        7۔ کفن
        اگر انسان کفن خریدے اور کئی سال پڑا رہے تو خمس کے پہلے سال کے اختتام پر اس کی قیمت کا خمس ادا کرنا چاہئے اور کرنسی کی قدر میں آنے والی کمی کی نسبت حاکم شرع سے معاملہ کرے۔
         
        تمرین
        1۔ اگر کسی شخص کے شرکاء خمس کے سال کا حساب نہ رکھتے ہوں تو اس کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
        2۔ کیا قرض الحسنہ کے سرمائے میں خمس ہوتا ہے؟ اوراس کے منافع کا کیا حکم ہے؟
        3۔ کیا کام کیلئے استعمال ہونے والے آلات میں خمس واجب ہوتا ہے ؟
        4۔ گھر یا گھریلو ضروریات کی خریداری کیلئے جو رقم بتدریج بچت کی جاتی ہے کیا اس میں خمس ہوتا ہے؟
        5۔ اگر کسی ملازم کو اس کے خمس والے سال کی تنخواہ اس سال کے اختتام کے بعد ملے تو کیا اس کا خمس دینا واجب ہے؟
        6۔ اگر کوئی شخص خمس والے سال سے پہلے اپنی کچھ آمدنی کسی کو بطور قرض دے اورخمس والے سال کے اختتام کے چند ماہ بعد اسے وصول کرے تو اس رقم کا حکم کیا ہے؟
      • سبق 70: درآمد کا خمس (4)
      • سبق 71: آمدنی کا خمس(5)
      • سبق 72: آمدنی کا خمس (6)
      • سبق 73: معدن کا خمس۔ خزانہ ...
    • چھٹی فصل: انفال
    • ساتھویں فصل: جہاد
    • آٹھویں فصل: امر بالمعروف اور نہی از منکر
700 /