ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام آموزشی

  • پہلا جلد
    • پہلی فصل: تقلید
    • دوسری فصل: طہارت
    • تیسری فصل: نماز
    • چوتھی فصل: روزه
    • پانچویں فصل: خمس
      • سبق 66: خمس
      • سبق 67: آمدنی کا خمس(1)
      • سبق 68: آمدنی کا خمس (2)
        پرنٹ  ;  PDF
         
        سبق 68: آمدنی کا خمس (2)
        موونہ (اخراجات) کے معنی۔ موونہ(اخراجات) کی حدود۔ وہ موونہ(اخراجات) جو ضرورت سے خارج ہو۔ موونہ (اخراجات) کی فروخت سے ملنے والی رقم
        توجہ
        چنانچہ بیان کیا گیا کہ آمدنی کے خمس میں موونہ کو استثنا کیا جاتا ہے اور خمس نہیں ہے
         
        4۔ مؤونہ(اخراجات) کے معنی
        اس مرحلے میں مؤونہ سے مراد سال بھر کے اخراجات ہیں ( نہ آمدنی پر آنے والے اخراجات) جو کچھ انسان اپنی اور اپنے زیر کفالت خاندان کی زندگی کے امور کو چلانے کیلئے خرچ کرتا ہے ، مؤونہ کہلاتا ہےجیسے کھانے پینے، لباس، رہائش، گھریلو سامان، رفت و آمد کے ذرائع، کتابیں، معمول کے مطابق سفر، صدقہ خیرات، انعام، نذر و نیاز، کفارہ اور مہمان وغیرہ کے اخراجات ۔
         
        5۔ مؤونہ (اخراجات) کی حدود
        1۔ ضرورت
        2۔ سال بھر کے اخراجات
        3۔ ایک سال
        4۔ حیثیت کے مطابق ہونا
        5۔ بالفعل خرچ کر دینا
         
        1۔ ضرورت
        ہر قسم کے اخراجات کو مؤونہ نہیں کہا جاتا بلکہ اس میں صرف وہ اخراجات شامل ہیں کہ جو امور زندگی کو چلانے کیلئے ضروری ہیں لہذا جن اشیا اور سامان کی ضرورت نہیں ہے ان پر ہونے والے اخراجات کو مؤونہ شمار نہیں کیا جاسکتا اسی قسم سے ہے وہ رقم کہ جسے حرام وسائل کے خریدنے پر خرچ کیا جاتا ہے جیسے سونے کی مردانہ انگوٹھی ، آلات لہو و لعب اور جوئے وغیرہ کے آلات۔
         
        2۔ سال بھر کے اخراجات
        مؤونہ سےمراد انسان کے روزانہ یا ماہانہ اخراجات نہیں ہیں بلکہ سال بھر کے اخراجات ہیں لہذا اس آمدنی کے خمس کا حساب کیا جائے گا کہ جو انسان کی زندگی کی سال بھر کی ضروریات سے بچ جائے۔
         
        3۔ ایک سال
        مؤونہ وہ مخارج ہیں کہ جو سال کے دوران پچھلے یا آئندہ سال کے نہیں بلکہ اسی سال کی آمدنی سے نکال کر خرچ کئے جاتے ہیں بنابراین اگر ایک سال آمدنی حاصل نہ ہو تو اس سال کے اخراجات کو پچھلے یا آئندہ سال کی آمدنی سے نہیں نکال سکتا۔
         
        4۔ حیثیت کے مطابق ہونا
        مو ؤنہ سے مراد معمول کے وہ اخراجات ہیں جو انسان اپنی حیثیت کےمطابق کرتا ہے لہذا ایک طرف سے مؤونہ ضروری وسائل اور ابتدائی ضروریات میں محدود نہیں ہے تو دوسری طرف سے ان مخارج کو بھی شامل نہیں ہے کہ جو فضول خرچی، حیثیت سے بڑھ کر اور اسراف شمار کیا جاتا ہے جیسے شادی اور وفات کے مواقع پر اور دعوتوں وغیرہ میں ہونے والے پُر تکلف اخراجات اور بعض اقسام کے جہیز وغیرہ۔
         
        5۔ بالفعل خرچ کر دینا
        مؤونہ سے مراد وہ مخارج ہیں کہ جنہیں انسان کم و بیش خود پر اور اپنے خاندان میں زیرکفالت افرادپر خرچ کر دیتا ہے اور جو کچھ خرچ نہیں کیا اسے شامل نہیں ہے اگرچہ وہ اس طرح ہو کہ اگر اسے خرچ کر دیتا تو اس کی عرفی اور معاشرتی حیثیت سے زیادہ نہیں تھا لہذا اگر کوئی شخص کنجوسی کرتے ہوئے اپنے اور اپنے گھر والوں کی حیثیت کے مطابق خرچ نہ کرے تو جسے وہ خرچ کرسکتا تھا اور نہیں کیا اسے مؤونہ میں سےشمار کرنا جائز نہیں ہے ۔
         
        توجہ
        شوہر اپنی بیوی کیلئے جو سونا خریدتا ہے اگر اس (شوہر) کی حیثیت کے مطابق اور متعارف مقدارمیں ہو تو وہ مؤونہ میں شمار ہوگا اور اس میں خمس نہیں ہے۔
        اگر کوئی شخص سال کی آمدنی سے بچوں کے مستقبل کے لئے مثلا گھر مہیا کرنے کا اقدام کرے تو چنانچہ مخارج سے مہیا کیا جانے والا گھر اس کی عرفی حیثیت کے مطابق ہوتو خمس نہیں ہے۔
        اگر انسان زیادہ قیمت کے ساتھ کوئی جائیداد خریدے اور پھر اسے ٹھیک کرنے اور اس کی تعمیر پر بڑی رقم خرچ کرے اور اس کے بعد اسے اپنے نابالغ بچے کو ہبہ کرکے باقاعدہ طور پر اس کے نام کر دے چنانچہ اس نے جو کچھ اس کی خریداری اور تعمیر نو پر خرچ کیا ہے اگر اس کے سال کی آمدنی میں سے ہو اور بچے کو ہبہ کرنا بھی اسی سال اور اس کی عرفی حیثیت کے مطابق ہو تو اس میں خمس نہیں ہے ورنہ اس کا خمس دینا واجب ہے۔
        وہ پیسہ جو انسان خیراتی کاموں میں خرچ کرتا ہے جیسے مدارس اور سیلاب وغیرہ سے مثاتر ہونے والوں کی مدد کرنا وہ اس سال کے مخارج میں سے شمار ہوگا کہ جس سال اسے خرچ کیا ہے اور اس میں خمس نہیں ہے۔
         
        6۔ وہ مؤونہ کہ جس کی ضرورت نہیں رہی
        وہ مؤونہ کہ جس کی ضرورت نہیں رہی جیسے وہ گھر جسے انسان نے اپنی رہائش کیلئے بنایا یا خریدا تھا اور پھر سرکاری گھر مل جانےکی وجہ سے اس کی ضرورت نہ رہے
        1۔ سال کی آمدنی سے یا اس آمدنی سے کہ جس میں خمس نہیں ہے یا اس کا خمس ادا کرچکا ہے سے تیار کیا ہو تو اس میں خمس نہیں ہے۔
        2۔ اس آمدنی سے تیار کیا ہو کہ جس کے ساتھ خمس کا تعلق ہوچکا تھا اور ادا نہیں کیا گیا تو اسے تیار کرنے کیلئے جو پیسہ خرچ کیا ہے کرنسی کی قیمت میں آنے والی کمی کو حساب کرتے ہوئے اس کا خمس دینا واجب ہے۔
        7۔ مؤونہ کی فروخت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقم اور اس کی قیمت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہونے والا منافع
        جو کچھ ہم نے مؤونہ کی عدم ضرورت کے بارے میں کہا ہے وہ مؤونہ کی قیمت کے بارے میں بھی جاری ہے لہذا گھر، گاڑی اور انسان کی اپنی اور اس کےگھر والوں کی ضرورت کے وسائل کہ جنہیں اس نے دوران سال کی آمدنی یا خمس ادا کردہ مال یا جس میں خمس نہیں تھا (مثلا وراثت اور ہبہ) سے خریدا ہو اور ضرورت کی خاطر یا بہتر چیز خریدنے کیلئے یا کسی اوروجہ سے انہیں فروخت کر دے تو ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اوراس کی قیمت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ملنے والے منافع میں خمس نہیں ہے البتہ اگر ان وسائل کو اس آمدنی سے خریدا ہو جس میں خمس واجب تھا اور ادا نہیں کیا گیا تو ان کے خریدنے میں جو رقم خرچ کی ہے کرنسی کی قدر میں آنے والی گراوٹ کو حساب کرتے ہوئےاس کا خمس دینا واجب ہے اگرچہ ان وسائل کو فروخت نہ بھی کرے۔
         
        توجہ
        جو شخص اپنی گاڑی فروخت کر دے
        اگر اس کی گاڑی مؤونہ کا جز ہو (یعنی اس کے اپنے استفادے اور ضروریات زندگی پوری کرنے کیلئے اور عرف میں اس کی حیثیت کے مطابق ہو) تو اس کی فروخت کی قیمت کا وہی حکم ہے جو مؤونہ کی فروخت کی رقم کا ہوتا ہے کہ جسے پہلے بیان کرچکے ہیں۔
        اور اگر کام کے لئے ہو تو خمس کے پہلے سال کی ابتدا میں جو قیمت تھی اس میں خمس واجب ہے اور قیمت میں ہونے والا اضافہ ا فراط زر کی مقدار کو کسر کرنے کے بعد فروخت کرنے والے سال کی آمدنی میں شمار ہوگا۔
         
        تمرین
        1۔ مؤونہ سے کیا مراد ہے؟
        2۔ مؤونہ کی حدود بیان کریں۔
        3۔ شوہر بیوی کے لئے جو سونا خریدتا ہے اس میں خمس ہے یا نہیں؟
        4۔ ضرورت سے خارج ہونے والے مؤونہ کا کیا حکم ہے؟
        5۔ اگر کوئی شخص اپنا گھر بیچ کر اس کی قیمت کو منافع حاصل کرنے کیلئے بینک میں رکھ دے اور پھر اس کے خمس کی تاریخ آجائے تو اس کا حکم کیا ہے؟ اور اگر اس کی رقم کو گھر خریدنے کیلئے سنبھال کررکھے تو کیا حکم ہے؟
        6۔ اگر گاڑی، موٹرسائیکل اور قالین جیسے گھریلو وسائل اور ضرورت کی چیزوں کو جن کا خمس نہیں دیا گیا ہو، بیچ دے تو کیا بیچنے کے بعد فوراً ان کا خمس ادا کرنا واجب ہے؟
      • سبق 69: آمدنی کا خمس(3)
      • سبق 70: درآمد کا خمس (4)
      • سبق 71: آمدنی کا خمس(5)
      • سبق 72: آمدنی کا خمس (6)
      • سبق 73: معدن کا خمس۔ خزانہ ...
    • چھٹی فصل: انفال
    • ساتھویں فصل: جہاد
    • آٹھویں فصل: امر بالمعروف اور نہی از منکر
700 / 0