ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام آموزشی

  • پہلا جلد
    • پہلی فصل: تقلید
    • دوسری فصل: طہارت
      • سبق 5: پانی
      • سبق6: تخلی
      • سبق 7: نجاسات (1)
      • سبق 8: نجاسات (2)
      • سبق 9: نجاسات (3)
      • سبق 10: مطہرات (1)
      • سبق 11: مطہرات (2)
      • سبق 12: مطہرات (3)
      • سبق 13: وضو (1)
      • سبق 14: وضو (2)
      • سبق 15: وضو (3)
      • سبق 16: وضو (4)
      • سبق 17: وضو کے اہداف
        پرنٹ  ;  PDF
         
        سبق 17: وضو کے اہداف

         

        8۔ وضو کے اہداف (وہ افعال جن کے لئے وضو کرنا ضروری ہے)
        1۔ عمل کے صحیح ہونے کی شرط یعنی اگر وضو کے بغیر اس عمل کو انجام دیا جائے تو صحیح نہیں ہے
        (نماز میت کے علاوہ )تمام واجب اور مستحب نمازیں
        نماز کے فراموش شدہ اجزا (سجدہ اور تشہد)
        واجب طواف
        2۔ عمل جائز (حرام نہ ہونے) کی شرط یعنی اگر وضو کے بغیر وہ عمل انجام دیں تو حرام ہے
        قرآن کے حروف کو مس کرنا
        خداوند عالم کے اسماء اور مخصوص صفات کو مس کرنا
        انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے اسماء کو مس کرنا احتیاط واجب کی بنا پر
        3۔ عمل کامل ہونے کی شرط مثلا قرآن پڑھنے کے لئے وضو کرنا
        4۔ عمل وجود میں آنے کے لئے شرط مثلا طہارت کے ساتھ رہنے کے لئے وضو کرنا
        5۔ عمل کی کراہت ختم کرنے کے لئے شرط مثلا جنابت کی حالت میں کھانا کھانا کہ وضو کرنے سے اس کی کراہت ختم ہوجاتی ہے۔

        توجہ
        تمام واجب اور مستحب نمازوں اور ان کے فراموش شدہ اجزا کے صحیح ہونے کے لئے وضو شرط ہے بنابر این کوئی بھی نماز وضو کے بغیر صحیح نہیں ہے مگر نماز میت جس کے لئے وضو لازم نہیں ہے۔
        خانہ خدا کے واجب طواف کے صحیح ہونے کے لئے وضو شرط ہے اور اس کے بغیر طواف باطل ہے۔ واجب طواف سے مراد وہ طواف ہے جو حج اور عمرہ کا جز ہے اگرچہ وہ حج یا عمرہ مستحب ہو لیکن مستحب طواف جو حج اور عمرہ کے علاوہ بجا لایا جاتا ہے، کے لئے وضو لازم نہیں ہے۔
        ا گر عرفا نماز کا وقت نزدیک ہوتو واجب نماز پڑھنے کے لئے وضو کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
        طہارت کے ساتھ رہنے کی نیت سے وضو کرنا شرعا مستحب اور مطلوب ہے اور مستحب وضو کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے
        مستحب ہے کہ انسان ہمیشہ باوضو رہے مخصوصا مسجد اور مقدس مکانات میں داخل ہوتے وقت، تلاوت قرآن اور سوتے وقت وغیرہ
        وضو صحیح طریقے سے انجام دینے کے بعد جب تک وہ باطل نہ ہوجائے ہر طہارت سے مشروط عمل انجام دینا جائز ہے بنابراین لازم نہیں ہے کہ ہر نماز کے لئے الگ وضو کرے بلکہ ایک وضو سے جب تک وہ باطل نہ ہوجائے جتنی چاہے نمازیں پڑھ سکتا ہے۔
        1۔ قرآن کو مس کرنا
        وضو کے بغیر قرآن کے حروف کو چھونا حرام ہے۔ یہ قرآن کریم سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ تمام قرآنی آیات و کلمات شامل ہیں جو دوسری کتابوں یا اخبارات، مجلے اور بورڈ وغیرہ پر ہوں۔

        توجہ
        بدن کے تمام حصے مثلا ہونٹ اور چہرہ وغیرہ ہاتھ کے حکم میں ہیں۔
         
        2۔ اللہ تعالی، انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے اسماء کو مس کرنا
        1۔ اللہ تعالی کی ذات سے مخصوص اسماء اور صفات کو وضو کے بغیر مس کرنا حرام ہے اور احتیاط (واجب) کی بناپر انبیائے کرام اور ائمہ معصومین علیھم السلام کے نام بھی اللہ کے نام کا حکم رکھتے ہیں۔
        2۔ لفظ جلالہ "اللہ" کو وضو کے بغیر مس کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ کسی مرکب نام مثلا عبداللہ یا حبیب اللہ کا جز ہو۔
        3۔ اسلامی جمہوری ایران کا لوگو اگر عرف کی نظر میں اسم جلالہ شمار ہوجائے تو طہارت کے بغیر چھونا حرام ہے اس صورت کے علاوہ کوئی اشکال نہیں ہے اگرچہ احوط (استحبابی) یہ ہے کہ اس کو طہارت کے بغیر مس نہ کرے۔
        4۔ وہ ضمیریں جو اللہ تعالی کی ذات کی طرف پلٹتی ہیں مثلا "بسمہ تعالی" میں موجود ضمیر لفظ جلالہ "اللہ" کا حکم نہیں رکھتی ہے۔
        5۔ لفظ جلالہ "اللہ" کے بجائے ہمزہ اور تین نقطے لکھنے میں شرعا کوئی مانع نہیں ہے اور ہمزہ اور تین نقطے لفظ جلالہ کا حکم نہیں رکھتے ہیں اور وضو کے بغیر ان کو چھونا جائز ہے۔
        6۔ صرف اس احتمال سے لفظ جلالہ "اللہ" کو لکھنے سے گریز کرنا تاکہ بے وضو افراد اس کو مس نہ کریں، کوئی مانع نہیں ہے
        قرآنی آیات اور اللہ تعالی اور انبیاء و ائمہ معصومین علیہم السلام کے اسماء مبارکہ کو مس کرنے کے بارے میں چند نکات
        قرآنی آیات یا اسماء مبارکہ لکھے ہوئے تعویز کو گلے میں ڈالنا کوئی اشکال نہیں رکھتا ہے لیکن تحریر (طہارت کے بغیر) بدن سے نہ لگنے پائے۔
        اگر کھانا کھاتے وقت قرآنی آیات مثلا آیت الکرسی یا اسماء مبارکہ لکھے ہوئے برتن استعمال کرنا چاہے تو باوضو ہو یا ہاتھ اور بدن قرآنی آیات اور اسماء مبارکہ سے مس نہ ہوجائیں تو کوئی اشکال نہیں ہے۔
        جو شخص کتابت کی مشین کے ذریعے قرآنی آیات یا اللہ تعالی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے نام لکھتا ہے لازم نہیں کہ لکھتے وقت باوضو ہو (یہ کام طہارت سے مشروط نہیں ہے) لیکن وضو کے بغیر ان کو مس کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے
        انگوٹھی پر نقش کلمات کو مس کرنے کے لئے طہارت شرط ہےمثلا قرآنی کلمات وغیرہ ہوتو طہارت کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے۔
        قرآنی آیات اور اسماء جلالہ وغیرہ کا نشرو اشاعت کوئی اشکال نہیں رکھتا ہے لیکن جس کو بھی مل جائیں شرعی احکام کی رعایت کرنا واجب ہے اور بے احترامی اور نجس کرنے اور وضو کے بغیرہاتھ لگانے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
        جن اخبارات میں قرآنی آیات اور اسماء مبارکہ لکھے ہوئے ہیں، ان مختلف کاموں مثلا روٹی لپیٹنا، ان پر بیٹھنا یا دسترخوان بنانا وغیرہ میں استعمال کرنا اگر عرفا بے احترامی شمار ہوجائے تو جائز نہیں ہے اور اگر بے احترامی شمار نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے
        قرآنی آیات اور متبرک اسماء پر مشتمل اشیاء کو نہر یا کوہل میں پھینکنا اگر عرفا توہین شمار نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے۔
        اگر کسی ورق پر قرآنی آیات اور اللہ تعالی اور معصومین علیہم السلام کے اسماء ہونا ثابت نہ ہو تو اس کو جلانا اور پھینکنا کوئی اشکال نہیں رکھتا ہے اور تحقیق اور جستجو لازم نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جن اوراق کو کاٹن سازی کی فیکٹری وغیرہ میں استعمال کرنا ممکن ہو یا ایک طرف تحریر اور دوسری طرف خالی ہونے کی وجہ سے لکھنے کے لئے استعمال کے قابل ہو تو اسراف کا امکان ہونے کی وجہ سے ان کو جلانا یا پھینکنا اشکال سے خالی نہیں ہے۔
        قرآنی آیات اور متبرک اسماء کو زمین میں دفن کرنا یا پانی کے ذریعے گھلانا کوئی اشکال نہیں رکھتا لیکن ان کو جلانے میں اشکال ہے اور اگر بے احترامی شمار ہوجائے تو جائز نہیں ہے مگر اس صورت میں جب ضرورت تقاضا کرے اور قرآنی آیات اور متبرک اسماء کو جدا کرنا ممکن نہ ہو
        قرآنی آیات اور متبرک اسماء کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کرنا کہ دو حروف بھی متصل نہ ہوں اور پڑھنے کے قابل نہ رہیں تو اگر بے احترامی شمار ہوجائے تو جائز نہیں ہے اس صورت کے علاوہ بھی اگر لفظ جلالہ اور قرآنی آیات کے مٹنے کا باعث نہ ہو تو کافی نہیں اسی طرح بعض حروف کو اضافہ یا کم کرکے کلمات کی تحریری شکل میں تبدیلی لانا بھی ان حروف کا شرعی حکم زائل ہونے کا باعث نہیں جن کو قرآنی آیات یا لفظ جلالہ کی نیت سے لکھا گیا ہے البتہ حروف میں اس طرح تبدیلی آئے کہ ان کے مٹنے کے برابر ہوجائے تو حکم کا زائل ہونا بعید نہیں ہے اگرچہ احتیاط (مستحب) یہ ہے کہ وضو کے بغیر مس کرنے سے اجتناب کرے۔
         
        تمرین
        1۔ کیا واجب نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے اس کی نیت سے وضو کرنا جائز ہے؟
        2۔ نماز صبح کے لئے وضو کرے تو کیا اس سے ظہر اور عصر کی نماز پڑھنا جائز ہے؟
        3۔ کن کن اسماء کو وضو کے بغیر مس کرنا حرام ہے؟
        4۔ "عبداللہ" اور "حبیب اللہ" جیسے اسماء کو وضو کے بغیر مس کرنے کا کیا حکم ہے؟
        5۔کیا اسلامی جمہوری ایران کے لوگو کو وضو کے بغیر چھونا حرام ہے؟
        6۔ کیا انگوٹھی کے اوپر نقش کلمات کو چھونا جائز ہے؟
      • سبق 18: غسل (1)
      • سبق 19: غسل (2)
      • سبق 20: غسل (3)
      • سبق 21: غسل (4)
      • سبق 22: مردوں کے احکام (1)
      • سبق 23: میت کے احکام (2)
      • سبق 24: میت کے احکام (3)
      • سبق 25: تیمم (1)
      • سبق 26: تیمم (2)
    • تیسری فصل: نماز
    • چوتھی فصل: روزه
    • پانچویں فصل: خمس
    • چھٹی فصل: انفال
    • ساتھویں فصل: جہاد
    • آٹھویں فصل: امر بالمعروف اور نہی از منکر
700 /