راہیان نور کے منتظمین سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

ثقافتی جنگ، فوجی جنگ سے زیادہ خطرناک ہے

تہران کے حسینیہ امام خمینی میں دفاع مقدس کے محاذوں کے لیے، روانہ ہونے والے راہیان نور نامی قافلوں کے منتظمین سے خطاب کرتے ہوئے،آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ راہیان نور کے یہ قافلے مقدس دفاع کے عظیم سرمائے اور اس کے طلائی ذخائر سے استفادہ کئے جانے کی ٹیکنالوجی ہیں۔
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ بدخواہوں کی ثقافتی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے، تمام میدانوں میں مقدس دفاع کی دولت اور اس کے طاقتور سرچشمے سے فائدہ اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے، مقدس دفاع کے دور کو ایرانی عوام کا تاریخ ساز دور قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ، مقدس دفاع اور اس کے درس کو کبھی نہیں بھلایا جانا چاہیے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ کسی بھی کام کو آگے بڑھانے کے لیے، اس کی براہ راست حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ کام، اپنے راستے پر گامزن رہے اور راہیان نور کے یہ قافلے، دفاع مقدس کے درس اور اس کی اقدار کو ہمیشہ یاد رکھنے کا، بہترین ذریعہ ہیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کمزوری کا احساس، دشمن کو حملے پر اکسانے کا باعث بنتا ہے بنابرایں دشمن کو جارحیت سے باز رکھنے کے لیے کمزروی کے احساس سے گریز اور اپنی طاقت کے عناصر کا،کہ جن کی تعداد کم نہیں ہے، بھرپور طریقے سے مظاہرہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دشمنوں کا منصوبہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو، انقلاب، امام خمینی اور اپنی اقدار کی چاہنے والی نسل کے بجائے، مغربی ثقافت سے وابستہ عناصر میں تبدیل کردیا جائے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ثقافتی سازشیں، سیکورٹی اور فوجی سازشوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ دشمن کی فوجی یلغار، قوم کو متحد اور طاقتور بنا دیتی ہے جبکہ ثقافتی حملے، عزم کو کمزور اور نوجوان نسل کو برباد کر دیتے ہیں۔

700 /