ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

ہفتہ عدلیہ کی مناسب سے عدلیہ کے حکام کے ساتھ ملاقات میں خطاب

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

والحمد للّہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیۃ اللہ فی الارضین۔


بہت خوش آمدید، محترم بھائیوں اور معزز اور محترم عدلیہ کے ذمہ داران، جنہوں نے ملک کی ایک اعلیٰ اور اہم ترین ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔ عید غدیر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ حضرت امام ہادی علیہ السلام کی ولادت، جو آج ہی کا دن ہے، اسکی بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عدلیہ کے ممتاز شہداء، شہید بہشتی اور دیگر شہداء، خاص طور پر حالیہ شہداء، جن میں مرحوم آقای رئیسی (رضوان اللہ علیہ) شامل ہیں، جو عدلیہ میں شاندار اور ممتاز خدمات رکھتے تھے، ان تمام شہداء کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔ خداوند ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی محنتوں کو قبول کرے۔ میں عدلیہ کے شریف کارکنان، چاہے وہ انتظامی ہوں، قاضی ہوں یا دیگر عہدیداران، انکا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں؛ وہ محنت کر رہے ہیں۔ جیسے کہ جناب محسنی نے کہا اور میں بھی بے خبر نہیں ہوں، الحمدللہ عدلیہ میں اچھی کاوشیں ہو رہی ہیں؛ ہم آپ سب کی زحمتوں اور کوششوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

خصوصاً عدلیہ کے محترم سربراہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم ان سے ملاقاتوں میں سنتے ہیں کہ عدلیہ میں کیا کام کیے گئے ہیں؛ ہم نصیحتیں کرتے ہیں، رپورٹس سنتے ہیں، اور الحمدللہ وہ اچھی محنت کر رہے ہیں اور اچھے نتائج دے رہے ہیں۔ محسنی صاحب کے اندر جو مثبت پہلو موجود ہیں، ان کے ساتھ یہ بھی ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ وہ عدلیہ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہاں طویل عرصے تک کام کرنے کی وجہ سے اس کے تمام پہلوؤں اور تفصیلات سے واقف ہیں، جو کہ ایک نمایاں خوبی ہے۔ بہر حال، ہم آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

عدلیہ کے حوالے سے چند جملے عرض کرتا ہوں۔ جناب محسنی نے جو رپورٹ پیش کی، وہ ایک اچھی رپورٹ تھی، اور کیے گئے کام قابلِ قدر اور عمدہ ہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں، نہ کہ صرف ہمارے ملک میں، عدلیہ کا بنیادی کام لوگوں کے مسائل کو عدل و انصاف کے ساتھ حل کرنا ہے؛ یہ ایک، اور دوسرا قانون کی سرخ لکیروں کی خلاف ورزی کو روکنا۔ عدلیہ کا بنیادی مقصد یہی ہے۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کو ابتدا سے "عدلیہ" یا "دادگستری" کہا گیا ہے۔ عدلیہ کا موضوع ہی "عدل و انصاف" ہے؛ یہ کام کی بنیاد ہے۔ تمام توجہات کو، سب سے پہلے، ان اختلافات کو عدل و انصاف کے ساتھ حل کرنے اور ان شکایات کا ازالہ کرنے پر مرکوز کرنا چاہیے جو عوام کو درپیش ہیں۔ جیسا کہ جناب محسنی نے جدید کیسز کی کثرت کا ذکر کیا، یہ سب شکایات ہی ہیں؛ ان میں انصاف کے اصول کی پابندی کی جانی چاہیے۔

اسلام میں بھی، جہاں آپ سب صاحبان ماشاءاللہ آگاہ اور واقف ہیں، عدل و انصاف ایک اہم نقطہ ہے۔ قرآن، نہج البلاغہ، احادیث، اور قرآن کی آیات میں بار بار انصاف کا ذکر کیا گیا ہے: "وَإِن حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ" (اگر فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ کریں)؛ ایک اور جگہ: "وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا" (جب بات کریں تو انصاف کے ساتھ کریں)؛ اور: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ" (اللہ انصاف کا حکم دیتا ہے)؛ اور: "قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ" (کہہ دو، میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے)؛ اور: "وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمْ" (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں)؛ اور: "كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ" (انصاف کے ساتھ قائم رہو، اللہ کے لیے گواہ بنو، چاہے اپنے خلاف ہو یا والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف)؛ اور: "وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا" (کسی قوم سے دشمنی تمہیں انصاف کرنے سے باز نہ رکھے)؛ اور دیگر متعدد آیات۔ محور انصاف ہے؛ یعنی قرآن اور دیگر اسلامی ذرائع میں کسی موضوع پر اتنا زور نہیں دیا گیا جتنا انصاف پر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عدلیہ کی تمام کوششیں، جرات کے ساتھ، انصاف کے قیام پر مرکوز ہونی چاہییں۔ البتہ جیسا کہ میں نے عرض کیا، یہ کام آسان نہیں ہے؛ اس کے لیے جرات چاہیے۔ جرات کے ساتھ اس میدان میں داخل ہونا چاہیے اور بغیر کسی مصلحت کے انصاف کو نافذ کرنا چاہیے۔

صحیفہ سجادیہ کی بائیسویں دعائے میں امامؑ فرماتے ہیں: اس طرح عمل کروں کہ "حتی یامن عدوی من ظلمي وجوري وییاس ولیی من میلی وانحطاط هوای" (میرا دشمن میرے ظلم سے محفوظ رہے اور میرا دوست میرے جھکاؤ سے مایوس ہو جائے)۔ عدلیہ، قاضی، اور منتظم کو اس طرح عمل کرنا چاہیے کہ دشمن اپنے آپ کو ظلم و زیادتی سے محفوظ سمجھے اور دوست جانبداری سے مایوس ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو عدالتی اور روحانی امن و سکون معاشرے میں قائم ہوگا؛ یعنی عوام کو یقین ہو گا کہ عدلیہ کی موجودگی میں ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور ان کی شکایات کو انصاف کے ساتھ دیکھا جائے گا۔ بنیادی بات یہی ہے۔ اس انصاف کے قیام کے لیے، میں نے چند نکات نوٹ کیے ہیں جو میں پیش کرنا چاہوں گا۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ عدلیہ کو "منصوبہ بندی" کے تحت کام کرنا چاہیے، منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ جناب محسنی نے اشارہ کیا کہ الحمدللہ اچھی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ اصلاحی دستاویزات، چاہے وہ پہلے سے تیار کردہ ہوں یا حالیہ نظرثانی شدہ دستاویزات، یہ تمام اچھے کام ہیں۔ لیکن جو بات مجھے فکر مند کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ ان دستاویزات کا اثر عدلیہ کے اہم اشاریوں پر زیادہ نظر نہیں آتا۔ یہ دستاویزات بہت عمدہ ہیں۔ اب میں چند اشاریوں کا ذکر کروں گا جو میں نے عدلیہ کی مکتوب رپورٹ سے لئے ہیں۔ مثلاً مقدمات کے فیصلے کا دورانیہ؛ یہ ایک اہم اشاریہ ہے، فیصلے کے دورانیے کو مختصر کرنا۔

نچلی عدالتوں کے فیصلوں کی تنسیخ؛ میں بارہا اس پر زور دیتا رہا ہوں کہ جب عدلیہ بیٹھتی ہے، قاضی کسی مقدمے کی سماعت کرتے ہیں، اس پر فیصلہ دیتے ہیں، اور پھر اپیل کورٹ میں جا کر فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابتدائی فیصلہ کمزور تھا۔ اس پر اتنی محنت کی گئی، وقت، پیسہ اور انسانی وسائل خرچ کیے گئے، لیکن نتیجہ مطلوبہ نہیں تھا۔ ابتدائی عدالتوں کے فیصلوں کی تنسیخ کو کم ہونا چاہیے؛ لیکن ایسا نہیں ہوا، حالانکہ یہ منصوبے مضبوط اور اچھے ہیں۔

یا وہ شکایات اور رپورٹیں جو انسپکشن آرگنائزیشن (سازمان بازرسی) کو موصول ہوئی ہیں؛ ان میں اضافہ ہوا ہے، کمی نہیں آئی۔ یعنی اس قسم کے اشارے موجود ہیں۔ آپ کو منصوبے کو اس طرح تیار اور نافذ کرنا ہوگا کہ ان اشاریوں پر واضح اثر پڑے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا مسئلہ منصوبے میں موجود خامیوں کی وجہ سے ہے یا نہیں، منصوبہ تو اچھا تھا لیکن اس پر عملدرآمد اچھا نہیں ہوا؛ اس کا جائزہ لینا چاہیے۔ میرے خیال میں یہ ان اہم امور میں شامل ہے جن کا خود محترم سربراہ کو جائزہ لینا چاہیے اور کسی کو ذمہ داری سونپنی چاہیے کہ وہ دیکھیں کہ مسئلہ کہاں ہے؛ آیا منصوبہ قابلِ عمل نہیں تھا یا مسئلہ اس کے نفاذ میں تھا۔

عدلیہ کو مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ مقدمات کی کثرت ہے، جو قاضیوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ قاضیوں کے فیصلوں میں کمزوری کی ایک وجہ یہی ہے کہ ان پر دباؤ ہوتا ہے، وقت بھی کم ہوتا ہے، اور کبھی کبھار یہ مہینے کے آخر کی ان اعداد و شمار پر مبنی رپورٹوں سے متاثر ہو سکتا ہے؛ یہ سب مل کر ایسے فیصلوں اور احکامات کا باعث بنتے ہیں جو مضبوط اور قطعی نہیں ہوتے۔ مقدمات کی کثرت کے لیے ایک بنیادی اور درست حل نکالنا ضروری ہے، اور یہ کام آپ کے ذمے ہے۔

میرے خیال میں عدلیہ میں جو ایک کام لازمی طور پر کیا جانا چاہیے، وہ قاضیوں کی علمی ارتقاء ہے۔ الحمدللہ عدلیہ میں ماہر قاضی کم نہیں ہیں، لیکن چونکہ یہ ادارہ وسیع ہے، اس لیے تمام قاضیوں کو قانونی علوم کے لحاظ سے ترقی کرنی چاہیے۔ میں نے سنا ہے کہ عدلیہ کی یونیورسٹی میں اس میدان میں اچھی صلاحیت موجود ہے؛ اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا جانا چاہیے۔ علوم قانون کی گہرائی؛ اگر ایسا ہوا، تو بہت سے مسائل کم ہو جائیں گے؛ یعنی قانونی علوم پر مہارت مقدمات کے زیادہ متین اور تیز حل کا باعث بنے گی۔

ایک اور ضروری کام یہ ہے کہ، الحمدللہ، عدلیہ کے معزز قاضیوں اور محنتی عملے میں سے، جن کی تعداد بھی کم نہیں ہے، ایسے افراد موجود ہیں جو واقعی جہادی کام کرتے ہیں؛ ایسے افراد کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ بہرحال، میرے نزدیک خلاصہ یہ ہے کہ ایسا عمل ہونا چاہیے کہ عوام عدلیہ کو "مرکزِ انصاف" سمجھیں، اسے انصاف کا مرکز مانیں، اور عدلیہ میں بغیر کسی لحاظ کے حق دیا جائے؛ یہی مسئلہ ہے۔ البتہ ان امور کے ساتھ جو حاشیہ میں کیے جا رہے ہیں، یہ قیمتی کام ہیں؛ جو کام ذکر کیے گئے وہ قیمتی ہیں، لیکن سب سے اہم کام یہ ہے کہ عدالتی اجلاس انصاف پر مبنی ہو، اور اس اجلاس کا نتیجہ انصاف ہو؛ ایسا انصاف جو سب کو محسوس ہو کہ یہ انصاف ہے؛ حتیٰ کہ وہ شخص جس کے خلاف فیصلہ صادر ہو، اگرچہ وہ ناراض ہوگا اور ممکن ہے کہ اعتراض کرے، لیکن دل میں وہ سمجھے گا کہ ایک منصفانہ فیصلہ ہوا ہے۔

ایک اور تاکید جو میں نے پہلے بھی کی تھی، وہ یہ ہے کہ ان مقدمات کی تیز تر سماعت کی جائے جن میں گرفتار شدہ یا قیدی شامل ہوں۔ بعض اوقات ہمارے دفاتر کو ایسی رپورٹس موصول ہوتی ہیں جو فکر مند کرتی ہیں؛ کوئی شخص جیل میں ہے، اس کا مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے، لیکن مقدمے کے نمٹانے میں وہ مطلوبہ تیزی نظر نہیں آتی۔ جیل میں قیدی کو سختی کا سامنا ہوتا ہے، لہٰذا اس کا معاملہ جلد از جلد طے ہونا چاہیے؛ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔ یا بعض افراد کا مسئلہ جیل کے اندر حل نہ ہونے والا مسئلہ ہے؛ مثلاً کسی مالی مسئلے کی وجہ سے جیل میں ہے، اور چونکہ وہ اپنا قرض ادا نہیں کر سکتا، اس کی مالی ذمہ داری دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، اور اسی حساب سے قید بھی طویل ہو رہی ہے۔ بعض افراد کو دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ انہیں زندگی بھر جیل میں رہنا پڑے گا، اور آخر میں بھی قرض ادا نہیں ہوگا؛ اس کا کوئی حل نکالا جانا چاہیے۔ میں نے ایک بار پہلے عدلیہ کو کہا تھا کہ آپ بعض معاملات میں حتیٰ کہ وجوہات (شرعی فنڈز) سے یہ رقم ادا کر سکتے ہیں اور آپ کو اس کا حق ہے؛ میں مالِ امام کے حصے کے اخراجات کے معاملے میں بہت محتاط ہوں؛ یعنی مساجد یا اس طرح کے منصوبے جو بنائے جا رہے ہیں، میں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ امام کے حصے سے بنائے جائیں، لیکن میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ان معاملات میں شرعی فنڈز استعمال کیے جا سکتے ہیں؛ مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

ایک اور تاکید جو میں یہاں کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ بعض محترم قاضی اپنے عدالتی فیصلوں میں مغربی انسانی حقوق کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہیں! یہ غلط ہے۔ وہ اصول، غلط اصول ہیں؛ اور اب تو خود وہ لوگ بھی ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے ـــ اس کی واضح نشانیاں آج دنیا میں سب کے سامنے ہیں کہ وہ لوگ خود بھی عمل نہیں کرتے ـــ لیکن ان کے اصول بنیادی طور پر ہی غلط ہیں۔ ہمارے قاضی اپنے فیصلے کے لیے ملک کے اندرونی قوانین کے علاوہ کسی اور چیز کا حوالہ نہیں دے سکتے؛ فیصلے ملکی قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔

آخری تاکید یہ ہے کہ ان مفید دوروں کے بارے میں جو محترم سربراہ (عدلیہ) کرتے ہیں؛ یہ دورے جاری رہنے چاہئیں اور یہ بہت مفید اور ضروری ہیں۔ یہ عدلیہ کے عوامی ہونے کی علامت ہیں اور میدان میں جا کر مسائل کی معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں؛ یہ چیزیں بہت اہم ہیں۔ لیکن اس بات کا دھیان رہے کہ ان دوروں سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں، ان کا بررسی کی جائے اور ان پر عملدرآمد کیا جائے۔ فرض کریں کہ جب عدلیہ کے سربراہ کسٹم یا کسی اور ادارے یا مقام پر جاتے ہیں، تو عوام کو امید ہوتی ہے کہ اب عدلیہ کا سربراہ آیا ہے، مسئلہ سمجھے گا اور اسے حل کرے گا؛ یہ امید عوام میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ مسئلہ حل نہ ہو، تو امید ناامیدی میں بدل جاتی ہے اور پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔ لہٰذا یہ پیروی ہونی چاہیے تاکہ وہ کام ان شاء اللہ انجام کو پہنچے۔ یہ ہماری عرض ہے عدلیہ کے حوالے سے۔

ایک بات انتخابات کے بارے میں بھی پیش کرنا چاہوں گا۔ الحمدللہ، ٹیلی ویژن پر بہت اچھے پروگرام ہو رہے ہیں جو عوام کو امیدواروں کے نظریات اور خیالات سے آگاہ کرتے ہیں۔ میری تاکید یہ ہے کہ یہ بحث مباحثے جو امیدوار ٹیلی ویژن پر کرتے ہیں یا وہ باتیں جو وہ عوامی اجلاسوں یا انفرادی طور پر کہتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ کسی امیدوار کی جانب سے اپنے حریف پر غالب آنے کے لیے ایسی بات کہی جائے جو ہمارے دشمن کو خوش کرے؛ دشمن کو خوش کرنے والی بات نہ کہی جائے؛ یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ کبھی کبھار ایسی باتیں کہی جا سکتی ہیں جو ملک، قوم یا اسلامی جمہوریہ نظام کو دشمن کے لیے خوشی کا باعث بنائیں؛ یہ جائز نہیں ہے۔ جو باتیں کہی جائیں، وہ ایسی ہوں جو ملک کے دشمن، نظام کے دشمن اور عوام کے دشمن کو خوش نہ کریں۔ مفروضہ یہ ہے کہ یہ تمام حضرات ایران اور اسلامی جمہوریہ کو دوست رکھتے ہیں؛ یہ مفروضہ ہے؛ وہ اس نظام اور ملک میں سربراہی کے خواہش مند ہیں، اور عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح بات کریں کہ دشمن خوش نہ ہو۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ روز بروز ہماری عدلیہ اس مطلوبہ مقام کے قریب ہو جائے جس کا آقای محسنی نے ذکر کیا، اور اس مقام تک پہنچے۔ ان شاء اللہ خداوند متعال مدد کرے، توفیق عطا کرے کہ ملک کے تمام امور اللہ کی رضا کے مطابق آگے بڑھیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ شہداء کی پاکیزہ روحیں آپ سے راضی ہوں، ہمارے عظیم امام کی روح آپ سے راضی ہو، اور ان شاء اللہ الٰہی توفیقات آپ سب کے شامل حال ہوں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

1۔ اس ملاقات کے شروع میں عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی اژہ ای نے ایک رپورٹ پیش کی

2۔ سورہ مائدہ آیت نمبر 42"۔۔۔۔۔ اور اگر فیصلہ کرو تو پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔۔۔'

3۔ سورہ انعام، آیت نمبر 152 ۔" اور جب فیصلہ کرنے یا گواہی کی بات کرو تو انصاف کرو۔۔۔۔۔۔۔ "

4۔ سورہ نحل ، آیت نمبر 90۔"۔۔۔۔ ۔۔۔۔ درحقیقت خدا وند عالم انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔۔۔ "

5۔ سورہ اعراف، آیت نمبر 29۔"کہہ دو کہ میرے پروردگار نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔۔"

6۔ سورہ شوری، آیت نمبر 15"۔۔۔ مجھے تمہارے درمیان انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔۔"

7۔ سورہ نساء، آیت نمبر 135"۔۔۔ ہمیشہ انصاف کے لئے اٹھو اور خدا کے لئے گواہی دو، چاہے وہ خود تمھارے یا تمھارے ماں باپ اور عزیزوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔۔۔"

8۔ سورہ مائدہ آیت نمبر 8 "۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ کسی گروہ کی دشمنی اس بات کا سبب بن جائے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو۔۔۔"

9۔ تاکہ میرا دشمن میرے ظلم سے محفوظ رہے اور میرا دوست میری توجہ اور نفسانی خواہش کی طرف سے نا امید ہو جائے۔

10۔ 26 جولائی 2019 کو عدلیہ کے سربراہ اور کارکنوں سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

11۔ عدلیہ کے سربراہ