مرثیہ گو شعرا سے رہبر معظم انقلاب کی ملاقات

کلام اور اشعار کے ذریعے بھی ظالموں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے

دختر رسول اکرم حضرت فاطمہ زہرا (س) کے یوم شہادت کی مناسبت سے رہبر معظم انقلاب نے مرثیہ گو شعرا سے ملاقات کی۔

رہبر معظم انقلاب نے ملاقات کے دوران ائمہ اطہار علیہم السلام کے مصائب کے ذکر کو، مذہبی کلام کا ایک اہم رکن قرار دیا تاہم آپ نے تعقل، منطق اور صحیح نقطہ نظر اور سلیقے کو بروئے کار لانے اور عامیانہ، سطحی، من گڑھت اور وہم آلود انداز فکر سے دور رہنے پر تاکید کی۔

قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات کو عصر حاضر کے واقعات سے متصل کرنے کو بھی مذہبی میدان کے شعرا کی ذمہ داری قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ رسول اکرم (ص) اور ائمہ معصومین صلوات اللہ علیہم، سب کے سب پرزور اور موثر طریقے سے ظلم، طاغوت، کفر، نفاق اور فسق کے خلاف جد و جہد کرتے تھے اور اسی لئے جابر و ظالم حکومتیں ان کے اس انداز فکرکو برداشت نہ کرپاتیں اور انہیں شہید کردیا کرتی تھیں۔

رہبر معطم انقلاب نے ائمہ معصومین علیہم السلام کی عملی تابعداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے ان عظیم ہستیوں کی حقیقی پیروی اور کفر و نفاق کے مقابلے میں مسلسل جد و جہد کا طریقہ کار قرار دیا۔ آپ نے مرثیہ گو شعرا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے زیر پرچم، عالمی کفر و نفاق کے محاذ کے خلاف جد و جہد آسان اور ممکن ہے حالانکہ علاقے کی بعض منحوس حکومتیں، امریکہ مخالف نعروں سے بھی بھڑک اٹھتی ہیں اور اس پر سخت  ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔

قائد انقلاب نے فرمایا کہ ظالموں کا مقابلہ صرف تلواروں تک محدود نہیں بلکہ آج کی دنیا میں جسے اشاعت کی دنیا کہا جاتا ہے، کلام اور اشعار کے ذریعے بھی ظالموں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جس کی انتہائی مناسب اور امید افزا  مثالیں ہمارے آس پاس موجود ہیں۔

آپ نے اپنی اس گفتگو کے دوران مذہبی شاعری میں اسلامی احکام اور اصولوں پر مبنی موضوعات کو استعمال کرنے پر بھی زور دیا۔ آپ نے فرمایا کہ صحیفہ سجادیہ جیسی مناجات اور دعاؤں کے مجموعے، مذہبی شاعری کے لئے ایک بحر پرخروش و بے کراں کی مانند ہیں اور ان کے مضامین ہمارے لئے سبق آموز ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے طرز زندگی کے انتخاب کے سلسلے میں بھی مذہبی شعرا کی ذمہ داری کو انتہائی اہم قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یورپ اور امریکہ میں ایسے مراکز اور ادارے قائم کئے جا چکے ہیں جن کا واضح ہدف یہ ہے کہ مغرب کے باہر کے ممالک خصوصا" اسلامی ایران کے رائج طرز زندگی کو بدل دیا جائے۔

 آپ نے زور دے کر کہا کہ اس اسلامی طرز زندگی کے خلاف اس یلغار کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی تحریک شروع ہوجائے جو ان مغربی حلقوں کے طرز فکر سے میل کھانے لگے۔ اس سلسلے میں انھوں نے تاکید کی کہ اس یلغار کے مقابلے میں،  صرف اپنا دفاع کرنا اور اپنے گرد حصار کھینچ لینا ہی کافی نہیں ہوگا بلکہ اسلامی طرز زندگی کی تشریح اور اخلاقی، سیاسی اور ثقافتی اصولوں کو اپنے اشعار کے ذریعے عوام تک پہنچا کر وہ اپنی ذمے داریوں پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔

یلغار کے مقابلے میں،  صرف اپنا دفاع کرنا اور اپنے گرد حصار کھینچ لینا کافی نہیں

آپ نے مذہبی شاعری  کی پیشرفت اور مذہبی موضوعات پر خامہ فرسائی کرنے والے شعراء کی تعداد میں اضافے  پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ اچھا کلام بے حد موثر اور جاودانہ ہوتا ہے اور آج بھی ہمیں ایسے شعرا کی ضرورت ہے جو شعری معیار کے اعتبار سے حافظ، سعدی اور صائب تبریزی کے ہم پلہ ہوں اور یہ ہدف صرف انتھک محنت، جد و جہد، مطالعہ، بڑے شعرا کے کلام کے مطالعے اور ان پر غور و فکر اور اپنے  اشعار میں معیاری الفاظ کے استعمال کے ذریعے ممکن ہوگا۔

 

700 /