رہبر انقلاب اسلامی کا مجلس شورائے اسلامی کے دسویں دور کی افتتاحی تقریب کے نام پیغام

استکباری سازشوں اور گھنائونے منصوبوں کے مقابلے میں پارلیمنٹ کو مضبوط قلعے کے طور پر تعمیر کریں

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے پارلیمنٹ یعنی مجلس شورائے اسلامی کے دسویں دور کی افتتاحی تقریب کے نام اپنے پیغام میں پارلیمانی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کی قدر دانی کرتے ہوئے مجلس شورائے اسلامی کی اراکین کو استقامتی معیشت کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے، اسلامی ثقافت کے احیاء اور اسکی توسیع، اور اسی طرح مختلف سیاسی گروہوں میں سرگرم ہونے اور اپنے ذاتی مفادات کو عمومی مفادات پر ترجیح دینے سے پرہیز کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی انقلابی اور قانونی ذمہ داری یہ ہے کہ استکبار کی گستاخانہ سازشوں، بے جا تقاضوں اور گھنائونے منصوبوں کے مقابلے میں مضبوط قلعےاور مومن اور انقلابی عوام کے لئے ایک با اعتماد اور درخشاں مرکز کے طور پر پارلیمنٹ کی تعمیر کریں۔


رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن، دفتر مقام معظم رہبری کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محمدی گلپائیگانی نے مجلس شورائے اسلامی کے دسویں دور کے افتتاحی اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔ پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے.


بسم اللہ الرحمن الرحیم
ماہ مبارک شعبان میں کہ جو روحانیت، خشوع و خضوع اور مذہبی عیدوں کا مہینہ ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کی عظیم ملت اور آپ تمام برگزیدہ اور اس عظیم ذمہ داری کو قبول کرنے والے افراد کی خدمت میں مجلس شورائے اسلامی کے دسویں دور کے آغاز کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ملت عزیزکے ہر ہر فرد کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اپنے پورے حماسہ کے ساتھ انتخابات میں شرکت کر کے قانون سازی کے عمل کو دوام بخشا اور اس حیاتی زنجیر میں ایک اور کڑی کا اضافہ کیا۔
یہ تمام کامیابیاں خداوند متعال کی توفیقات اور اس کی مقدس ذات کے لطف وکرم اور رحمتوں کی وجہ سے ہیں کہ جس نے اپنے منفرد دست قدرت سے اس ملک، ملت اور اسلامی نظام کی مدد کی ہے۔ دل و زبان اس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنے سے ناتواں ہیں۔ ملت ایران نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کے اہم انتخابات میں اپنی بھرپور شرکت کے زریعے اسلامی جمہوری نظام سے اپنی دیرینہ بیعت کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے اور اپنی اس سادہ زبان میں بدخواہوں کو جواب دیا ہے۔ ملت کی گراں قدر وفاداری، اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں سے مختلف شعبوں میں احساس ذمہ داری اور شکر نعمت کا تقاضہ کرتی ہے۔ آج ہم عہدیداروں کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوچکی ہیں۔
حلف۔۔۔۔ کہ جو نئی پارلیمنٹ کے پہلے دن اراکین پارلیمنٹ اٹھائیں گے ایک شرعی اور ذمہ دارانہ حلف ہے۔  اس کی تمام شقیں دراصل پارلیمنٹ کے اراکین کی بنیادی ذمہ داریوں کو بیان کر رہی ہیں، آپ تمام محترم برادران اور خواہران اپنی حکمت، عقل مندی، اخلاص اور پرہیزگاری کے زریعے اپنی ذمہ داریوں کے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کہ جو زیادہ تر قانون سازی اور نظارت پر مشتمل ہے، ان ذمہ داریوں کا اجرا کرکے خدا اور خلق خدا کے سامنے سرافراز ہوجائیں۔
یہ ایسی صورت میں ممکن ہے کہ جب آپ پارلیمنٹ کو اس کی مخصوص جگہ یعنی ملک کے تمام امور سے بالاتر قرار دیں۔
خطے اور دنیا کی طوفانی صورتحال اور بین الاقوامی تسلط پسند طاقتوں اور انکے ماتحتوں کی مہم جوئی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ماضی کے مقابلے میں مزید پیچیدہ صورتحال کے روبرو کر دیا ہے۔ ان شرائط سے نمٹنے کے لئے ملکی اقتدار کو اس وقت ہوشیاری، راسخ عزم و ارادے اور اعلی حکام کی جانب سے جدت عمل کی ضرورت ہے۔ آپ محترم نمائندوں کی انقلابی اور قانونی ذمہ داری یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی تعمیر استکبار کی گستاخانہ سازشوں، بے جا تقاضوں اور گھنائونے منصوبوں کے مقابلے میں مضبوط قلعےاور مومن اور انقلابی عوام کے لئے ایک با اعتماد اور درخشاں مرکز کے طور پر کریں۔
استقامتی معیشت کو اس کی تمام تر شرائط کے ساتھ عملی کرنا نیز اسلامی ثقافت کے احیاء اور اسکی توسیع کے لئے سنجیدہ کوششیں اس وقت دو اولویت رکھنے والے موضوعات ہیں۔ ایک اور اہم اولویت مختلف شعبوں میں قومی اقتدار اور ملکی امن و امان اور سیکورٹی کے سلسلے میں ہےکہ جو ملک میں عدل و انصاف، آزادی اور پیشرفت و ترقی کی ضمانت ہے۔ ان اہم ترین موضوعات کی شناخت ان اراکین کی ذمہ داری اور انکے ہوشیار ذہنوں کی دسترس میں ہیں۔
محترم اراکین اسمبلی کو توکل، خداوند قادر کے وعدوں پر حسن ظن رکھنے اور صراط مستقیم پر استوار رہنے کی نصیحت کرتا ہوں اور انہیں مختلف سیاسی گروہوں میں سرگرم ہونے اور اپنے ذاتی مفادات کو عمومی مفادات پر ترجیح دینے سے پرہیز کرنے کی تاکید کرتا ہوں۔
ضروری سمجھتا ہوں کہ مجلس شورائے اسلامی کے نویں دور کے محترم اراکین اور محترم اسپیکراور ان کی پوری کابینہ کی کوششوں اور خدمتوں نیز پارلیمنٹ کے دسویں دور کے لئے انتخابات کا انعقاد کرنے والے افراد کا تہہ دل سے شکریہ اور انکی قدردانی کروں۔
اس موقع پر امام راحل رح اور شہداء اور مجاہدین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور حضرت ولی الاعظم ارواحنا فداہ کی خدمت میں سلام اور عرض ادب کے ساتھ ساتھ آپ تمام افراد کی توفیقات میں اضافے کے لئے خداوند متعال کی بارگاہ میں دعاگو ہوں۔


و السلام علیکم و رحمة الله و برکاته
سیّد علی خامنه‌ای
۷ خرداد ماه ۱۳۹۵
 

700 /