تاریخ کے دریچے میں

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای " دام ظلہ " کی مختصر سوانح حیات

امام خمینی (رہ) نے فرمایا : " آقای خامنہ ای اسلام کے سچے وفادار اور خدمتگذار ہیں اسلام کی خدمت ان کی دلی تمنا اور آرزو ہے وہ اس سلسلے میں بے مثل اورمنفرد شخصیت کے حامل ہیں میں ان کو عرصہ دراز سے اچھی طرح جانتا ہوں "

ولادت سے مدرسہ تک

رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے ، آپ اپنے والدین کی دوسری اولاد ہیں ، آپ کے والد سید جواد خامنہ ای اکثر علماءاور دینی مدرسین کی طرح قناعت پسنداور سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے، انکی سادہ زندگی کے مثبت اثرات ان کے اہل و عیال پر بھی مرتب ہوئے اور وہ بھی ان کی طرح قناعت پسنداور سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہوگئے
رہبر عظیم الشان اپنی زندگی کی پہلی یاد داشت بیان کرتے ہوئے اپنی اور گھر والوں کی زندگی کے حالات کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :
" میرے والد ، مشہورو معروف عالم دین اور بہت ہی متقی و پرہیزگارتھے وہ اکثرخلوت پسند اور گوشہ نشیں رہتے تھے ہماری زندگی بہت سخت گزرتی ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بعض اوقات ہمارے گھر رات کا کھانا نہیں بنتا تھا ! میری والدہ بڑی مشقت سے ہمارے لئے رات کا کھانا مہیا کرتیں اور یہ رات کا کھانا” روٹی اور کشمش “ہوتا تھا "
لیکن وہ گھر کہ جس میں آقای سید جواد کے اہل و عیال زندگی بسر کرتےتھے ، اس کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی اس طرح بیان فرماتے ہیں :
” میرے والد کا مکان جہاں میں پیدا ہوا اور میری زندگی کے ابتدائی چار، پانچ سال وہیں گزرے وہ ساٹھ یا ستر میٹر مربع جگہ پر مشتمل تھاجو مشہد کے ایک ایسے محلہ میں واقع تھا ، جہاں غریب لوگ رہتے تھے ، اس مکان میں صرف ایک کمرہ اور ایک تاریک تہہ خانہ تھا ، جس میں گھٹن محسوس ہوتی تھی !
والد بزرگوار کے پاس اکثرمہمان (ایک عالم دین کی حیثیت سے ملاقات اور مسائل پوچھنے کے لئے) آتے جاتےتھےاور جب تک مہمان ان کے پاس رہتے تھے اس وقت تک ہم سب اس تاریک تہہ خانے میں چلے جاتے تھے بعدمیں میرے والد کے کچھ عقیدتمندوں نےہمارے مکان سے ملحقہ چھوٹا سا زمین کا قطعہ خرید کر ہمارے مکان میں اضافہ کردیااور اس طرح ہمارے مکان میں تین کمرے ہوگئے “
رہبر معظم انقلاب اسلامی کا بچپن ایک غریب لیکن روحانی اور معنوی خاندان اور صاف و ستھرے ماحول میں گزرا ، قرآن مجید کی تعلیم کے لئے آپ چار سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائی سید محمد کے ہمراہ مکتب بھیج دئیے گئے ، اس کے بعد ان دونوں بھائیوں کے داخلے ایک ایسے اسلامی مدرسہ ” دارالتعلیم دیانتی “میں کرائے گئے جو نیا تاسیس ہوا تھا ، اور ان دونوں بھائیوں نے ابتدائی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی.

حوزہ علمیہ میں

آپ نے انٹر کالج میں تعلیم کے ساتھ ہی ( عربی گرائمر پر مشتمل کتاب جامع المقدمات ) اور صرف و نحو کی تعلیم کا آغاز کردیا تھا ، اس کے بعد آپ حوزہ علمیہ میں وارد ہوئے اور اپنے والد محترم اور دیگر اساتذہ سے ادبیات اور مقدمات کی تعلیم حاصل کی ، آپ حوزہ علمیہ میں داخلے اور روحانیت کے راستے کو انتخاب کرنے کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں :
" اس معنوی اورنورانی راستے کو انتخاب کرنے کا اصلی سبب میرے والد ماجد تھے اورمیری والدہ ماجدہ بھی اس سلسلہ میں میری بہت تشویق کیا کرتی تھیں اور یہ راستہ انھیں بہت پسند تھا "
آپ نے”جامع المقدمات “ ” سیوطی “ ” مغنی“ جیسی(عربی ) ادبیات کی کتابوں کومدرسہ " سلیمان خان " اور " نواب " کے مدرسین کے پاس حاصل کیا ، آپ کے والد ماجد بھی اپنے بیٹوں کے دروس پر نظارت کیا کرتے تھے آپ نے” کتاب معالم “بھی اسی دور میں تمام کرلی تھی ، اس کے بعد ”شرائع الاسلام “اور ” شرح لمعہ“ کو اپنے والد ماجد سے اور ان کا کچھ حصہ ” مرحوم آقای میرزا مدرس یزدی“ سے حاصل کیا ، رسائل و مکاسب کو مرحوم حاج شیخ ہاشم قزوینی کے پاس پڑھا اور سطح میں فقہ و اصول کے باقی دروس اپنے والد ماجد کے پاس تمام کئے اور اس طرح آپ نےمقدمات اور سطح کے دروس کوحیرت انگیز طور پر ساڑھے پانچ سال کی مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچادیا
آپ کے والد ماجد مرحوم سید جواد نے ان تمام مرحلوں میں اپنے بیٹے کی ترقی اور پیش رفت میں اہم اور نمایاں کردار ادا کیا ، رہبر عظیم الشان نے منطق و فلسفہ کے موضوع پر کتاب ” منظومہ سبزواری“ کوپہلے مرحوم آیت اﷲ میرزا جواد آقا تہرانی اور اس کے بعد ” شیخ رضا ایسی“ کے پاس حاصل کیا

حوزہ علمیہ نجف اشرف میں

آیت اﷲ العظمی خامنہ ای (مدظلہ)نے مشہد مقدس میں عظیم مرجع آیت اﷲ العظمیٰ میلانی کے پاس ۱۸ سال کی عمر سے فقہ و اصول کے دروس خارج کا آغاز کردیا تھا ، آپ ۱۳۳۶ھ ش میں عتبات عالیات کی زیارت کی غرض سے نجف اشرف پہنچ گئے اور حوزہ علمیہ نجف کے عظیم مجتہدین جیسے سید محمد محسن حکیم ، سید محمود شاہرودی ، میرزا باقر زنجانی ، سید یحییٰ یزدی اور میرزا حسن بجنوردی کے دروس خارج سے کسب فیض کیا آپ نے حوزہ علمیہ نجف اشرف کے درس و تدریس اور تحقیق کے ماحول کوبہت پسند کیا لیکن آپ کے والد ماجد آپ کے وہاں رہنے پر راضی نہ ہوئے جس کی بنا پرآپ نجف اشرف سےکچھ ہی عرصے کےبعد اپنے والد کی مرضی کےمطابق انکے پاس مشہد واپس تشریف لے آئے

حوزہ علمیہ قم میں

آیت اﷲ العظمی خامنہ ای فقہ و اصول اور فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ۱۳۳۷ ھ ش سے ۱۳۴۳ ھ ش تک حوزہ علمیہ قم میں مشغول رہے اور آیت اﷲ العظمیٰ بروجردی (رہ) ، امام خمینی(رہ) ، شیخ مرتضیٰ حائری یزدی (رہ) اور علامہ طباطبائی(رہ) جیسے بزرگ علماء کے محضر سےکسب فیض کیا
۱۳۴۳ھ ش میں رہبر انقلاب کو اپنے والد ماجد کے خط کے ذریعہ معلوم ہوا کہ آپ کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی ” موتیا بندھ“ کی وجہ سے زائل ہوگئی ہے آپ اس خبر سے بہت افسردہ اورغمگین ہوئے اور ”قم میں تعلیم جاری رکھنے یا مشہد واپس جا کر والد ماجد کی خدمت کرنے “ کے درمیان پس و پیش میں پڑ گئے ، غور و فکر کرنے کے بعدآپ اس نتیجے پر پہنچے گئےکہ خدا کی خاطر قم سے مشہد کے لئے ہجرت اختیارکریں اور اپنے والد ماجد کی وہاں جاکر خدمت اوردیکھ بھال کریں ، آپ اس بارے میں فرماتے ہیں :
” میں باپ کی خدمت کرنےمشہد چلا گیا اور خدا وند عالم نے مجھے بہت زیادہ توفیقات عطا فرمائیں ، بہرحال میں اپنا فریضہ اور ذمہ داری ادا کرنے میں مشغول ہوگیا ، اگر میں زندگی میں کامیاب ہوا ہوں اور مجھے توفیق حاصل ہوئی ہے تواس بارے میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ اسی نیکی کی وجہ سے ہے کہ جو میں نے اپنے والد ماجد ، بلکہ ماں باپ دونوں کے ساتھ کی تھی “
آیت اﷲ العظمی خامنہ ای نے ان دو راستوں ( ١- قم میں تحصیل علم ، ٢- مشہد میں والدین کی خدمت ) میں صحیح راستے (مشہد میں والدین کی خدمت ) کو انتخاب کیا ، بعض اساتذہ اور ملنے جلنے والوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آپ نے اتنی جلدی قم کیوں چھوڑ دیا ، اگر رہ جاتے تو مستقبل میں ایسے بن جاتے اور ویسے ہوجاتے لیکن آپ کے تابناک اور روشن مستقبل نے بتادیا کہ آپ کا انتخاب صحیح تھا اور تقدیر الٰہی نےآپ کے لئے بہترین انجام رقم کردیا تھا ، کیا اس وقت کوئی تصور کرسکتا تھا کہ ایک ۲۵ سالہ بااستعداد جوان عالم کہ جو خدا کی رضا اور والدین کی خدمت کی خاطر قم سے مشہد روانہ گیا ، ۲۵ سال بعد مسلمانوں کے رہبر اور ولی امر ایسے بلند مقام اور منزلت پر فائز ہوجائےگا ؟ !
آپ نے مشہد مقدس میں درس سے ہاتھ نہیں کھینچا اورتعطیلات کے ایام یا سیاسی جد و جہدو فعالیت ، جیل اور سفر کے علاوہ اپنی فقہ واصول کی تعلیم کو ۱۳۴۷ ھ ش تک مشہد کے بزرگ علماء بالخصوص آیت اللہ العظمی میلانی کے محضر میں پابندی کے ساتھ جاری رکھا ، اسی طرح آپ جب ۱۳۴۳ ھ ش میں مشہد میں مقیم ہوگئے تو آپ نے تحصیل علم اورضعیف و بیمار باپ کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ فقہ و اصول اور دینی تعلیم سے جوان طالب علموں اور اسٹوڈینٹس کو آگاہ اور روشناس کرانا شروع کردیا تھا

سیاسی جد و جہد

آیت اﷲ العظمی خامنہ ای خود فرماتے ہیں کہ " میں امام خمینی (رہ) کا فقہی ، اصولی ، سیاسی اور انقلابی شاگرد ہوں " لیکن مجاہد اعظم اور شہید راہ خدا ” سید مجتبیٰ نواب صفوی “ کے ذریعہ آپ کے پہلے سیاسی ، جہادی مرحلےاور طاغوتی طاقت کے ساتھ مقابلہ اور جد وجہد کا آغاز ہوا ، جس وقت نواب صفوی چند فدائیان اسلام کے ہمراہ ۱۳۳۱ھ ش میں مشہد گئے اور مدرسہ سلیمان خان میں اسلام کے احیاء و بقا اور الٰہی احکام کی حاکمیت “ کے موضوع پر ولولہ انگیز اور پرجوش تقریر کی جس میں ایرانی عوام کو برطانوی سامراج کے مکر وفریب اورشاہ کی خیانتوں سے آگاہ کیا اس وقت آیت اﷲ خامنہ ای جو مدرسہ سلیمان خان کے جوان طالب علم تھے ، نواب کی شعلہ بیانی سے بہت متاثرہوئے ، آپ فرماتے ہیں :
”اسی وقت انقلاب اسلامی کی چنگاری نواب صفوی کی شعلہ بیانی کے ذریعہ میرے وجود میں آگئی تھی اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ میرے دل میں پہلی آگ مرحوم صفوی نے روشن کی تھی “

امام خمینی (رہ) کی تحریک کے ہمراہ

آیت اﷲ خامنہ ای نے ۱۳۴۱ھ ش میں اس وقت میدان سیاست میں قدم رکھا کہ جب آپ قم میں مقیم تھے اور محمدرضا شاہ پہلوی کی اسلام دشمن پالیسی اور امریکہ نواز سیاست کے خلاف امام خمینی (رہ) کی انقلابی تحریک کاآغاز ہوا آپ اس وقت سیاسی جدو جہد کے میدان میں وارد ہوگئے اور پورے سولہ سال تک بہت سے نشیب و فراز ، شکنجے ، شہر بدری اور جیل جانے کے باوجود آپ نے جد و جہد کا سفر جاری رکھا اور اس راستے میں پیش آنے والے کسی بھی خطرے سے آپ ہراساں نہیں ہوئے آپ پہلی بار محرم ۱۳۸۳ھ ق میں امام خمینی(رہ) کی جانب سے آیت اﷲ میلانی اور خراسان کے دیگر علماءتک پیغام پہنچانے پر مامور ہوئے
اس پیغام میں علماءکے لئے محرم الحرام میں تبلیغ کرنے کا طریقہ کار ، شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں کو فاش کرنا ، ایران کے حالات اور قم میں رونما ہونے والے حوادث جیسے اہم موضوعات شامل تھے
آپ نے اس ماموریت کو بحسن و خوبی انجام دیا اور خود بھی تبلیغ کے لئے شہر ” بیرجند“ کی جانب روانہ ہوگئے اور امام خمینی (رہ) کا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ ، تبلیغ اور شاہ کی امریکہ نوازپالیسیوں کو فاش کرنا شروع کردیا ، لہٰذا ۹ محرم مطابق ۱۲ خرداد۱۳۴۲ ھ ش کو آپ گرفتار کر لئے گئے اور ایک رات قید میں رہنے کے بعد اگلے روز مجلس نہ پڑھنے ، تقریر نہ کرنے اور زیرنظر رہنے کی شرط پر رہا کر دئیے گئے ، ۱۵ خرداد کا حادثہ پیش آنے پر آپ کودوبارہ بیر جند سے مشہد لاکر فوجی قید خانہ میں بند کردیا گیا اور یہاں پر آپ نے دس دن شکنجہ اور آزار کے ساتھ قید با مشقت میں گزارے

دوسری گرفتاری

بہمن ۱۳۴۲ھ ش مطابق رمضان المبارک ۱۳۸۳ ھ ق میں آیت اﷲ خامنہ ای اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک منظم پروگرام کے تحت ( شہر) کرمان کی جانب روانہ ہوئے ، کرمان میں دوتین دن قیام کے دوران تقریریں کیں ، شہر کے علماءاورطلاب سے ملاقات کی ، اس کے بعد آپ زاہدان کے لئے روانہ ہوگئے ، یہاں پر آپ نےعوامی اجتماعات میں پُر جوش تقریریں کیں اور ( شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں ) کو برملا کرنےاور بالخصوص شاہ کے ذریعہ چھٹی بہمن کومنعقد کیئے جانے والے جعلی ریفرنڈم کے سلسلے میں کی جانے والی تقریروں کولوگوں نے بہت پسند کیا ، پندرہ رمضان المبارک ، امام حسن مجتبیٰ کی تاریخ ولادت کے موقع پر پہلوی شہنشاہی حکومت کی شیطانی اور امریکہ نواز سیاست کےمتعلق آپ کی بے باک انداز میں تقریریں اورآپ کی شجاعت و انقلابی جوش و ولولہ اپنے عروج کو پہنچ گیا لہذا ساواک ( شاہ کی خفیہ ایجنسی) نے آپ کو گرفتار کرکے ہوائی جہاز کے ذریعہ تہران روانہ کردیا ، رہبر عظیم الشان تقریباً دو مہینے تک ( تنہائی کے عالم میں ) ” قزل قلعہ “ نامی جیل میں قیدی بناکر رکھے گئے اور آپ نے اس جیل میں انواع و اقسام کی توہین اور شکنجے برداشت کئے

تیسری اور چوتھی گرفتاری

مشہد اور تہران میں انقلابی اور پر جوش جوانوں کے درمیان آپ کی تفسیر و حدیث اور اسلامی تفکر پر مبنی مذہبی کلاسیں بہت مقبول ہوئیں آپ کی یہ مذہبی سرگرمیاں ساواک کے غم وغصہ کا باعث بنیں اورساواک نے آپ کا پیچھا کرنا شروع کردیا ، اسی وجہ سے آپ نے ۱۳۴۵ ھ ش کا سال تہران میں مخفی طور پر گزارااور ایک سال بعد ( ۱۳۴۶ھ ش ) آپ گرفتار کرکے جیل بھیج دئے گئے ،آپ کی انھیں علمی سرگرمیوں ، جلسے اور کلاسیں منعقد کرنے ، عالمانہ اور مصلحانہ انداز میں عوام کے سامنے بیان کرنے کی بنا پرآپ کودوبارہ پہلوی ساواک نے ۱۳۴۹ ھ ش میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا

پانچویں گرفتاری

حضرت آیت اﷲ خامنہ ای (مدظلہ)ساواک کے ذریعہ اپنی پانچویں گرفتاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :
” ۱۳۴۸ ھ ش سے ایران میں مسلح تحریک کا احساس ہو گياتھا ، میرے بارے میں اُس وقت کی حکومتی کی ایجنسیوں کی حساسیت اور شدت عمل میں اضافہ ہوگیاتھا ، کیوں کہ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ ایسی تحریکوں سے میرے جیسے افراد کا منسلک ہونا ناگزیر ہے لہٰذا ۱۳۵۰ ھ ش میں مجھے پانچویں مرتبہ جیل ڈال دیا گیا ،جیل میں ساواک کا تشدد آمیز سلوک آشکارا طور پر بتارہا تھا کہ یہ ایجنسی ،اسلامی فکر رکھنے والےمراکز کے مسلح تحریک سے ملحق ہونے پر کس قدر فکر مند ہے اور یہ ایجنسی اس بات سے بھی خوب واقف تھی کہ مشہد اور تہران میں میری تبلیغاتی سرگرمیاں ، ان مسلح تحریکوں سے علیحدہ نہیں ہیں لہذا آزادی کے بعد تفسیر کے عمومی دروس اور آئیڈیالوجک مخفی کلاسوں کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا “

چھٹی گرفتاری

۱۳۵۰ ھ ش سے ۱۳۵۳ ھ ش کے درمیان آیت اﷲ خامنہ ای کے تفسیر اور اسلامی و انقلابی آئیڈیالوجک پر مشتمل دروس مشہد مقدس کی تین مسجدوں ” مسجد کرامت “ ” مسجد امام حسین (ع) “ اور” مسجد میرزا جعفر “ میں تشکیل پاتے اور ہزاروں مشتاق افراد آپ کے ان دروس میں شرکت کرکے فیض یاب ہوتے تھے بالخصوص ان تین مرکزوں پر اسلام اور انقلاب کے معتقد طالب علم اور آگاہ و روشن خیال جوان آپ کے دروس میں شرکت کرکے خالص اسلامی نظریات سے آشنا ہوتے تھے
آپ کا نہج البلاغہ کا درس ایک نئے جوش و ولولے کے ساتھ برقرارہوتا تھا فوٹو کاپی کئے ہوئے کتابچے” پرتوی از نہج البلاغہ “ کے عنوان سےایک دوسرے کے ہاتھوں میں رہتے ،وہ انقلابی نوجوان طالب علم کہ جنھوں نے جد و جہد اور حقیقت کا درس آپ سے سیکھا تھا ، ایران کے دور و نزدیک شہروں میں جاتے اور وہاں کے لوگوں کو ان نورانی حقائق سے آشنا کرکے عظیم اسلامی انقلاب کے لئے زمینہ ہموار کرتے تھے، ان سرگرمیوں کی وجہ سے بے رحم ساواک نے ”دی ماہ “ ۱۳۵۳ ھ ش میں آیت اﷲ خامنہ ای کے مشہد میں واقع مکان پر حملہ کرکے آپ کوگرفتار کرلیااور آپ کی بہت سی یادداشتوں اور تحریروں کو ضبط کرلیا
آپ کی یہ چھٹی اور شدید ترین گرفتاری تھی اور ۱۳۵۴ھ ش کے موسم خزاں تک سول پولیس کی ایک مشترک کمیٹی کی قید میں رہے ، اس مدت میں آپ ایسے وارڈ میں رکھےگئے جس میں سخت اذیت و آزار دیا جاتا تھا ، آپ نے اس گرفتاری میں سخت تکلیفیں برداشت کیں ،خود آپ کے بقول : " ان تکالیف کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے برداشت کی ہیں "
جیل سے رہا ہونے کے بعد آپ مشہد مقدس تشریف لے گئے اور پھر انقلابی کوششوں اور علمی و تحقیقاتی پروگرام کوجاری رکھا ، لیکن اس بار آپ کو سابقہ طریقے پر کلاسیں تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی گئی

شہر بدری

ظالم پہلوی حکومت نے آیت اﷲ خامنہ ای کو ۱۳۵۶ھ ش کے آخر میں گرفتار کرنے کے بعد شہر بدر کرکے تین سال کی مدت کے لئے ” ایران شہر “ بھیج دیا ، ۱۳۵۷ ھ ش کے وسط میں ایران کے انقلابی مسلمانوں کی جدو جہد جب عروج کو پہنچی تو آپ ” ایران شہر “ سے آزاد ہوکر مشہد مقدس واپس تشریف لے آئے اور پہلوی سفاک حکومت کے خلاف عوامی سطح پر ہونے والی جد و جہد میں لوگوں کے ساتھ اگلی صفوں میں شامل ہوگئے اور آپ نے پندرہ سال تک ، راہ خدا میں مردانہ اور دلیرانہ جد و جہد ، قیام و پائداری اورتمام سختیوں اور تلخیوں کو برداشت کرنے کے بعد انقلاب اسلامی کی شاندار کامیابی اور شاہی حکومت کے ظالمانہ نظام کے ذلت آمیز زوال اور ایران کی سرزمین پر اسلام کی حاکمیت کے شیریں پھل کو مثمر ثمر ہوتے دیکھا

کامیابی کے نزدیک

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے نزدیک ، امام خمینی (رہ) کی پیرس سے تہران واپسی سے پہلے امام خمینی(رہ) کی جانب سے ایران میں شہید مطہری ، شہید بہشتی ، ہاشمی رفسنجانی جیسی مجاہد شخصیتوں کی شرکت سے ” شورای انقلاب اسلامی “ تشکیل پائی اور آیت اﷲ خامنہ ای بھی امام خمینی(رہ) کے حکم سے اس شورایٰ کے ممبر بنائے گئے ، امام خمینی (رہ) کا پیغام شہید مطہری کے ذریعہ آپ تک پہنچا ، رہبر کبیر انقلاب کا پیغام دریافت کرتے ہی آپ مشہد سے تہران تشریف لے آئے

کامیابی کے بعد

آیت اﷲ خامنہ ای ، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اسی طرح جوش و ولولے کے ساتھ گرانقدر اسلامی فعالیت اور انقلاب اسلامی کے مقاصد سے نزدیک تر ہونے کے لئے کوششیں کرتے رہے جو سب کی سب اپنی نوع اور حالات کے اعتبارسے بے نظیر اور بہت ہی اہم تھیں ، یہاں پر ہم صرف اہم سرگرمیوں کا ذکر کررہے ہیں:
٭ آپ نے شہید بہشتی ، شہید باہنر اورہاشمی رفسنجانی جیسے ہم خیال اور ہمفکر اور مجاہد علماء کی مدد سے ۱۳۵۷ھ ش میں اسفند کے مہینے میں حزب جمہوری اسلامی کی بنیاد رکھی
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں وزارت دفاع میں معاونت کے عہدے پر فائز ہوئے
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سرپرست مقررہوئے
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں تہران کے امام جمعہ منتخب ہوئے
٭ ۱۳۵۹ ھ ش میں اعلی دفاعی کونسل میں حضرت امام خمینی (رہ) کے نمائندہ مقرر ہوئے
٭ ۱۳۵۹ ھ ش میں عراق کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کےشروع ہونے اور امریکہ اور سابق روس جیسی شیطانی قوتوں کے اشاروں پر صدام کی ظالم فوج کے ہاتھوں ایرانی سرحدوں پر عام تباہی مچانےکے ساتھ ، آپ نے لباس جنگ پہن لیا اور مخلصانہ طور پر میدان جنگ میں پہنچ کر اسلامی انقلاب کے دفاع اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لئے دفاعی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے
٭ ۱۳۶۰ ھ ش میں تیر مہینے کی چھٹی تاریخ میں تہران کی مسجد ابوذر میں منافقین نےآپ پر ناکام قاتلانہ حملہ کیا جس میں آپ زخمی ہوگئے
٭ صدارت : ایران کے دوسرے صدر ، محمد علی رجائی کی شہادت کے بعد آیت اﷲ خامنہ ای ۱۳۶۰ ھ ش میں مہر کے مہینے میں ۱۶ملین سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے امام خمینی (رہ) کے حکم پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے
٭ ۱۳۶۰ھ ش میں انقلاب کی ثقافتی کونسل کے سربراہ منتخب ہوئے
٭۱۳۶۶ ھ ش میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ منتخب ہوئے
٭ ۱۳۶۸ ھ ش میں بنیادی آئین میں تجدید نظر کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مقررہوئے
٭ امت کی رہبری اور ولایت : ۱۳۶۸ ھ ش میں خرداد مہینےکی 14 تاریخ کو رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے بعد ، مجلس خبرگان رہبری نے آپ کوامت کی رہبری اور ولایت کے عظیم منصب اور ذمہ داری کے لئے منتخب کیا اور یہ انتخاب کتنااچھا اور مبارک انتخاب تھا کہ امام خمینی (رہ) کی رحلت کے بعد آپ ایرانی عوام بلکہ امت اسلامیہ کی رہبری کی ذمہ داری بڑی خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے ساتھ نبھارہے ہیں ۔

قلمی آثار

اس مختصر تحریر کے آخر میں بہتر ہے کہ رہبر عظیم الشان کے قلمی آثار پر نگاہ ڈالتے چلیں :

تالیف و تحقیق :

٭ طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن
٭ از ژرفای نماز
٭ گفتار ی در باب صبر
٭ چہار کتاب اصلی علم رجال
٭ ولایت
٭ گزارش از سابقہ تاریخی و او ضا ع کنونی حوزہ علمیہ مشہد
٭ زندگی نامہ آئمہ تشیع ( غیر مطبوعہ )
٭ پیشوای صادق
٭ وحدت و تحزب
٭ ہنر از دیدگاہ آیت اﷲ خامنہ ای
٭ درست فہمیدن دین
٭ حدیث ولایت ( آپ کے پیغامات اور گفتگو کا مجموعہ ہے کہ جو اب تک ٩ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے و۔۔۔
ترجمے
٭ صلح امام حسن ، تالیف راضی آل یاسین
٭ آئندہ در قلمرو اسلام ، تالیف سید قطب
٭ مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان ، تالیف عبد المنعم نمری نصری
٭ ادعا نامہ علیہ تمدن غرب ، تالیف سید قطب

700 /